پیپلز پارٹی کی سپورٹ کے بغیر بجٹ اور آئینی ترمیم پاس نہیں ہو سکتی؛ بلاول بھٹو زرداری کا حکومت کو پیغام
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واضح کر دیا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر پارلیمنٹ سے بجٹ یا کوئی بھی آئینی ترمیم منظور کروانا حکومت کے لیے ممکن نہیں ہے۔ اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے اہم اجلاس کی صدارت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 28 ویں آئینی ترمیم سے متعلق ابھی تک کوئی بات نہیں ہوئی، تاہم 26 ویں اور 27 ویں ترامیم میں صوبوں کے حقوق اور عدلیہ میں نمائندگی پیپلز پارٹی کی مرہونِ منت ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے آئندہ مالی سال کے بجٹ پر حکومت سے مذاکرات کے لیے 4 رکنی اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جس میں راجہ پرویز اشرف، سلیم مانڈوی والا، شیری رحمان اور نوید قمر شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت شدید معاشی بحران اور مہنگائی کی لپیٹ میں ہے، جس کا دکھ سیاسی جماعتوں کو محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کے عوامی ریلیف کے اقدامات کا خیرمقدم کیا تاہم خبردار کیا کہ آنے والے بجٹ میں عوام کے لیے مزید مشکلات ہو سکتی ہیں، لہٰذا حکومت کو معاشی حالات دیکھ کر ریلیف کے فیصلے کرنے ہوں گے۔
خارجہ پالیسی اور علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پاک بھارت حالیہ جنگ کے بعد وزیراعظم نے انہیں امن کمیٹی کی سربراہی دی اور انہوں نے عالمی میڈیا پر بھارت کے بیانیے کو شکست دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی درست سمت میں جا رہی ہے، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل دنیا میں امن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے یو اے ای، ایران اور سعودی عرب سے آزادانہ اور مضبوط تعلقات ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدے سے یہ رشتے مزید مستحکم ہوں گے۔
چیرمین پی پی پی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر حکومت پر تنقید سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے عالمی منڈی کی قیمتوں کے مطابق فیصلہ کیا ہے، تاہم انہوں نے وفاق سے مل کر موٹر سائیکل سواروں اور عام آدمی کو ریلیف دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔