سپریم جوڈیشل کونسل کا بڑا فیصلہ؛ ججز کے خلاف شکایات پر کارروائی مکمل، 23 درخواستیں نمٹا دیں

اسلام آباد: سپریم جوڈیشل کونسل نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خلاف موصول ہونے والی 23 مختلف شکایات کو داخلِ دفتر کر دیا ہے، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز کے خط سے متعلق اہم معاملے پر کارروائی مؤخر کر دی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، سپریم جوڈیشل کونسل کا اہم اجلاس سپریم کورٹ بلڈنگ کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا، جس کی صدارت چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے بطور چیئرپرسن کونسل کی۔ اجلاس میں چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان، جسٹس منیب اختر، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سرفراز ڈوگر سمیت دیگر سینئر ججز نے شرکت کی۔

اعلامیے کے مطابق، اجلاس کے دوران ادارہ جاتی احتساب اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کونسل کی تشکیلِ نو کی گئی، جس کے بعد ممبران سے متعلق امور پر غور کے لیے چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان نے کونسل کی سربراہی کی۔ کونسل نے ججز کے خلاف موصول ہونے والی 23 شکایات کا جائزہ لینے کے بعد انہیں داخلِ دفتر کرنے کا فیصلہ کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز کی جانب سے لکھے گئے خط کے معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، تاہم کونسل نے رائے دی کہ چونکہ یہ معاملہ پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیرِ التوا ہے، اس لیے فی الحال اس پر کارروائی کو مؤخر کیا جاتا ہے۔ اجلاس میں جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس شاہد وحید اور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس عتیق شاہ نے بھی شرکت کی۔