تہران: ایران اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے درمیان سفارتی تناؤ میں اس وقت شدید اضافہ ہو گیا جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یو اے ای کو ایران کے خلاف ہونے والی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث قرار دے دیا۔
برکس (BRICS) اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے متحدہ عرب امارات پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اب تک علاقائی یکجہتی کی خاطر یو اے ای کا نام لینے سے گریز کیا تھا، لیکن اب حقائق سامنے لانا ضروری ہیں۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ جب ایران پر حملے شروع ہوئے تو متحدہ عرب امارات نے اس کی مذمت تک کرنا گوارا نہیں کیا، جو کہ افسوسناک ہے۔ انہوں نے اماراتی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ ایران سے متعلق اپنی موجودہ پالیسی پر فی الفور نظرِ ثانی کرے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ کو بھی شدید نشانے پر لیا اور کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ امریکی "غنڈہ گردی” کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی جبر کے خلاف ہماری مزاحمت کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ دنیا کی اکثر قومیں مختلف شکلوں میں اس جبر کا سامنا کرتی آئی ہیں۔ انہوں نے برکس ممالک پر زور دیا کہ وہ مشترکہ چیلنجز کے خلاف متحد ہو کر آگے بڑھیں کیونکہ زوال پذیر سلطنتیں اپنے انجام کو روکنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے دعویٰ کیا ہے کہ بن یامین نیتن یاہو نے ایران جنگ کے دوران یو اے ای کا خفیہ دورہ کیا اور اماراتی صدر سے ملاقات کی۔ اگرچہ متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے اور اسے بے بنیاد قرار دیا ہے، تاہم ایران نے اس صورتحال پر اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کر دیا ہے۔