کراچی سے لاہور تک پھیلے منشیات نیٹ ورک کی سرغنہ ‘پنکی’ گرفتار، تفتیش میں چونکا دینے والے انکشافات

انمول عرف پنکی نامی مبینہ منشیات فروش خاتون کی گرفتاری کے بعد کراچی اور لاہور میں سرگرم ایک بڑے بین الصوبائی نیٹ ورک سے متعلق حیران کن تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق ملزمہ نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے تقریباً 13 برس قبل معمولی سطح پر منشیات فروشی شروع کی اور بعد ازاں کوکین کے منظم کاروبار میں شامل ہوگئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ پوش علاقوں میں ہونے والی پارٹیوں اور نوجوان لڑکے لڑکیوں کو نشے کا عادی بنانے میں ملوث رہی، جبکہ 17 سے 20 سال عمر کے نوجوان اس کے بڑے خریدار تھے۔ ابتدائی طور پر وہ آئس فروخت کرتی رہی، تاہم بعد میں کوکین کے دھندے میں داخل ہوگئی۔

تفتیش کے دوران ملزمہ نے انکشاف کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگرانی بڑھنے پر وہ کراچی سے لاہور منتقل ہوگئی، جہاں اس نے کرائے کے گھر میں مبینہ خفیہ لیبارٹری قائم کر رکھی تھی۔ حکام کے مطابق اس لیبارٹری میں بیرونِ ملک سے حاصل کی گئی کوکین کو مختلف کیمیکلز کے ذریعے مزید مہلک بنایا جاتا تھا۔

ملزمہ نے دورانِ تفتیش بتایا کہ شناخت چھپانے کیلئے اس نے اپنی انگلیاں تیزاب سے جلائیں اور تیز دھار آلے سے فنگر پرنٹس کو نقصان پہنچایا تاکہ بائیو میٹرک شناخت ممکن نہ ہو سکے۔ حکام کے مطابق یہی وجہ تھی کہ وہ کئی برس تک گرفتاری سے بچتی رہی۔

پولیس ذرائع کے مطابق کوکین کی پیکنگ اس کے اپنے برانڈ نام سے کی جاتی تھی، جبکہ پیکجنگ اور پرنٹنگ عام مارکیٹ سے کروائی جاتی تھی۔ تفتیشی حکام کے مطابق عام مارکیٹ میں کوکین 10 سے 12 ہزار روپے فی گرام فروخت ہوتی تھی، جبکہ ملزمہ کی تیار کردہ “گولڈ” برانڈ کوکین 40 ہزار روپے فی گرام تک فروخت کی جاتی تھی۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزمہ کے خریداروں میں امیر گھرانوں اور شوبز انڈسٹری سے وابستہ افراد بھی شامل تھے۔ حکام کے مطابق منشیات کی ترسیل کیلئے رائیڈرز اور کم عمر لڑکیوں کو استعمال کیا جاتا تھا جبکہ پورا نیٹ ورک خود ملزمہ کنٹرول کرتی رہی۔

ذرائع کے مطابق ملزمہ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ گرفتاری سے بچنے کیلئے کراچی اور پنجاب میں بعض پولیس اہلکاروں کو کروڑوں روپے رشوت دے چکی ہے۔ لاہور میں ایک مقدمے کی تفتیش میں بھی مبینہ غفلت سامنے آئی ہے، جس پر محکمانہ کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پولیس رپورٹ کے مطابق ملزمہ کے نیٹ ورک کی رسائی تعلیمی اداروں تک بھی تھی اور اسکولوں و کالجوں کے طلبہ کو خصوصی رعایتی پیکجز دیے جاتے تھے۔ عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیٹ ورک کے سہولت کاروں کی شناخت کیلئے مزید تفتیش جاری ہے۔

حکام نے بتایا کہ ملزمہ سے 1540 گرام کوکین، مختلف کیمیکلز، بیکنگ پاؤڈر، ایفی ڈرین، کیٹامین اور کوکین کی تیاری میں استعمال ہونے والا خام مال برآمد کیا گیا ہے، جبکہ برآمد شدہ مواد کا کیمیکل تجزیہ بھی کروایا جا رہا ہے۔